نئی دہلی ،17؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی)مودی کی حکومت کواقتدارسے بے دخل کرنے کیلئے جہاں ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں اتحاد کی باتیں دہراتی رہتی ہیں وہیں کانگریس تنہابھی اس معاملہ میں غوروفکرکرتی رہتی ہے۔2024 میں ہونے والے لوک سبھاانتخابات میں کانگریس ہرصورت میں اقتدارپر براجمان ہوناچاہتی ہے،اس کیلئے صدرسونیا گاندھی نے اپنی رہائش گاہ پر ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی،جس میں انتخابی پالیسی ساز پرشانت کشور نے نہ صرف شرکت کی بلکہ گاندھی خاندان سے ملاقات بھی کی۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں ملکارجن کھرگے، اے کے انٹونی، امبیکا سونی، جے رام رمیش، مکل واسنک، دگ وجے سنگھ اور اجے ماکن بھی شریک ہوئے۔اس دوران پرشانت کشور نے ملک بھر میں کانگریس کو مضبوط کرنے کیلئے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دیا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اسے نافذ کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
پرشانت کشور کی پیشکش میں کیا ہے؟پی کے نے اپنی پیشکش میں 2024کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کا روڈ میپ بتایا۔ ذرائع کے مطابق پی کے نے کہا کہ کانگریس کو لوک سبھا انتخابات میں صرف 370سیٹوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ ملک بھر میں لوک سبھا کی کل 543سیٹیں ہیں۔ پی کے کی طرف سے دی گئی ایک اور تجویز یہ ہے کہ جہاں کانگریس کمزور ہے، وہاں ڈرائیونگ سیٹ کسی مضبوط اتحادی کو دے اور ساتھ مل کر الیکشن لڑے۔واضح رہے کہ پرشانت کشور نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر صحیح حکمت عملی کے ساتھ وقت پر تیاری شروع کر دی جائے تو 2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینا ممکن ہے۔
مانا جا رہا ہے کہ پرشانت کشور نے اگلے لوک سبھا انتخابات سے پہلے کانگریس کو مضبوط کرنے کیلئے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ کچھ دنوں سے یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ کانگریس پارٹی گجرات انتخابات میں پرشانت کشور کو بڑا رول سونپ سکتی ہے۔ اس سے پہلے ایک انٹرویو میں پرشانت کشور نے خود کہا تھا کہ وہ مئی میں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں بڑا اعلان کریں گے۔ حالانکہ پرشانت کشور کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس کیلئے الیکشن اسٹریٹجسٹ کا کردار ادا کرنے کی بجائے ان کی پارٹی میں شمولیت کا اب بھی بعید امکان ہے۔ لیکن پرشانت کشور کے کانگریس میں شامل ہونے کے امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ بتادیں کہ پرشانت کشور نے 2021 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کی جیت کے ہفتوں بعد کانگریس ہائی کمان کے ساتھ میٹنگ کی تھی، جو کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی تھی۔تاہم کانگریس نے بعد میں پرشانت کشور کے ایک سابق ساتھی کے ساتھ قرار کیا تھا تاکہ اتر پردیش اور پنجاب میں اپنی انتخابی مہم کو سنبھال سکے۔